اصغر ندیم سید 14 جنوری 1950ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق بہاولپور سے تھا۔ ان کے بچپن کا ابتدائی حصہ بہاولپور کے دیہی علاقوں میں گزرا۔ ملتان میں سکول اور کالج کی تعلیم حاصل کی۔ 1972ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ایم اے اردو کرنے کے فوری بعد انہوں نے بطور لیکچر رملازمت اختیار کرلی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ وہاں انہوں نے پانچ سال تھیٹر، فلم اینڈ ٹی وی ڈیپارٹمنٹ میں گزارے اور صدر شعبہ بھی رہے۔ شاعری اصغر ندیم سید کا پہلا شوق تھا۔ انہوں نے ایمرسن کالج میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ ان کی شاعری کی تربیت ملتان میں ہوئی۔ اس تربیت میں ایک اہم نام مجید امجد کا تھا۔ وہ ان سے ملنے ساہیوال جاتے تھے۔ پھر عبدالرشید اور عرش صدیقی نے بھی ان کی شعری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ جب انہوں نے نظمیں لکھنا شروع کیں تو وہ پابند نظموں کا زمانہ نہیں تھا ۔ ن م راشد اور مجید امجد جیسے لوگ پابند نظموں سے آزاد نظموں کی طرف آگئے تھے۔ ان کا زمانہ آزاد اور نثری نظموں کا تھا۔ اصغر ندیم سید نے تنقید بھی لکھی اور اس میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔ اصغر ندیم سید کے مضامین، ناولٹ، شعری مجموعوں اور ٹی وی ڈرامہ سیریلز کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں ” طرز احساس‘‘ (مضامین)، ’’آدھے چاند کی رات‘‘ (ناولٹ )، ’’ جنگل کے اس پار جنگل‘‘ ( شعری مجموعہ) ان کے متعدد ڈرامہ سیریل کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں جن میں ’’چاندگرہن‘‘، ’’دریا‘‘، ’’خواہش‘‘، ’’پیاس‘‘، ’’ نجات‘‘،’’ہوائیں“ ،”غلام گردش‘‘، ’’آوازیں‘‘، ’’ بول میری مچھلی‘‘ اور ’’دل بھٹکے گا“ شامل ہیں۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’ادھوری کلیات‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور افسانوی مجموعہ ” کہانی مجھے ملی“ کے عنوان سے چھپا جس میں ان کی دس کہانیاں شامل ہیں ۔ 2006ء میں اصغر ندیم سید کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ ٔحسن کارکردگی دیا گیا اس کے علاوہ انہیں پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کا ایوارڈ برائے بہترین مصنف بھی مل چکا ہے۔